بھٹکل:29؍نومبر(ایس اؤ نیوز)عین دھان کی فصل کاٹنے کے دوران جنگلی سوروں سےپریشانی جھیلنے کے بعد تعلقہ کےکسان ،اب چیتے اور بندروں کی وجہ سے کنگال ہوگئے ہیں۔ تعلقہ کے کونار سےمتصل علاقوں میں چیتے پالتو جانوروں کا شکار کرنے اور ماوین کوروے علاقے میں بندر عوا م کا پیچھا کرتے ہوئے حملہ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کونار ،ہدلورو علاقے کے مکین شری نواس ہیبار کے گھر کے جانورکو ایک جنگلی جانور نے اپنا شکار بنایا ہے جس کے متعلق شبہ جتایا جارہا ہےکہ یہ جنگلی جانور چیتا ہوسکتاہے۔ مویشیوں کے ڈاکٹر نے مردہ گائے کا پوسٹ مارٹم کیا ہے اور تصدیق کی ہے کہ جنگلی جانور کے حملے سے جانور کی موت ہوئی ہے۔
واردات کے بعد علاقے میں عوام اندھیرے میں گھر سے نکلنے سے خوف کھارہےہیں۔ چونکہ انتخابی ضابطہ اخلاق جاری ہے اس وجہ سے عوام کے پاس موجود دیسی بندوقیں بھی نہیں ہیں کیونکہ لائسنس والی بندوق تعلقہ انتظامیہ کی تحویل میں ہیں۔ ہتھیاروں کے بغیر جنگلاتی علاقوں میں رہنے والے عوام خطرہ محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے غصہ کا بھی اظہار کررہے ہیں۔
ماوین کوروے میں بندروں سے پریشانی :تعلقہ کے ماوین کوروے میں بندروں کی بھاگ دوڑ اور حملوں سے عوام کافی پریشان ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر نکلا ایک بندر راہ چلتے لوگوں پر حملے کررہا ہے جس کی وجہ سے بچوں اور بڑوں کا علاقےمیں چلنا پھرنا سے دوبھر ہوگیاہے۔ چلتی سواریوں کے درمیان اچانک بندر آجانے سے کئی سوار حادثے کا شکار ہوکر اسپتال میں علاج کروانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ لوگوں نے شکایت کی ہے کہ بندروں کی ہراسانی کو لےکر سرکاری حکام کو خبر دی گئی ہے مگر کوئی توجہ دینےکے لئے تیار نہیں ہے۔
شیر یا چیتا؟:کونار علاقے میں پالتوجانوروں کو شکار بنائے جانے کو لےکر چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ بھٹکل کے جنگلات میں اس سے قبل چیتوں کی بھاگ دوڑ دیکھی گئی تھی۔اُس وقت بھی عوام نے چیتے کو شیر سمجھ کر ہنگامہ مچایاتھا، اب جب کہ پالتوجانوروں کو جنگلی جانورشکارکرنے کے واقعات پیش آرہے ہیں تو بعض کنڑا میڈیا بھی چیتا لکھنے کے بجائے شیرلکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس جانورپر جنگلی جانور نے حملہ کیا ہے وہ اپنی جگہ سے صرف 100-150میٹر کی دوری پر مردہ پایاگیا ہے، ممکن ہے جنگلی جانور کو اپنے شکار کو دور تک لے جانے کی قوت نہیں تھی ، اسی بنا پر سمجھا جارہاہے کہ یہ چیتے کا حملہ ہوسکتاہے۔ ویسے کرناٹکا میں 500 کے قریب شیر پائے جاتے ہیں ۔ تین برس قبل شیموگہ کی سرحد پر شراوتی جنگلات میں شیر کے کچھ نشان ملنے کی بات کہی گئی تھی، لیکن ابھی تک کسی نے شیر کو نہیں دیکھا ہے۔ دراصل کچھ اخبارات میں کونار علاقے میں شیر کی چہل پہل کے متعلق جو خبریں شائع ہوئی ہیں اس تعلق سے کہا جارہاہےکہ وہ چیتا ہوسکتاہے شیر نہیں۔